Posts

Showing posts from June, 2025

غزل

 اڑ جائیں گے تصویر کے رنگوں کی طرح ہیں,  ہم وقت کی ٹہنی پہ پرندوں کی طرح ہیں. تم شاخ پہ کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح ہو,  ہم ریت پہ لکھے ہوئے حرفوں کی طرح ہیں. اِک عمر ترستے ہیں کسی ایک خوشی کو,  ہم لوگ بھی بنجر سی زمینوں کی طرح ہیں. تم آج بھی آئیندہ زمانوں کی جھلک ہو ہم آج بھی گزرے ہوئے لمحوں کی طرح ہیں دنیا کے لئے کچھ بھی سہی تیرے لئے ہم,  مخلص سدا ماؤں کی دعاؤں کی طرح ہیں.
  مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے سیلاب سے برباد مکانات کی مانند میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند اس شخص سے ملنا میرا ممکن  نہیں محسن میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند محسن نقوی 
 بہت محسوس ہوتا ہے تیرا محسوس نہ کرنا