غزل
اڑ جائیں گے تصویر کے رنگوں کی طرح ہیں, ہم وقت کی ٹہنی پہ پرندوں کی طرح ہیں. تم شاخ پہ کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح ہو, ہم ریت پہ لکھے ہوئے حرفوں کی طرح ہیں. اِک عمر ترستے ہیں کسی ایک خوشی کو, ہم لوگ بھی بنجر سی زمینوں کی طرح ہیں. تم آج بھی آئیندہ زمانوں کی جھلک ہو ہم آج بھی گزرے ہوئے لمحوں کی طرح ہیں دنیا کے لئے کچھ بھی سہی تیرے لئے ہم, مخلص سدا ماؤں کی دعاؤں کی طرح ہیں.