سُن درد پیا، ہمدرد پیا سب لوگ یہاں بے درد پیا ہم آنکھیں بھی نا کھول سکیں یہاں ہر سُو غم کی گرد پیا یہ آنگن تجھ بن سُونا ہے تُو میرے دل کا فرد پیا میں تیرے بن بے جان بہت مری تجھ بن سانسیں سرد پیا سُن سانسوں کے سلطان پیا ترے ہاتھ میں میری جان پیا میں تیرے بن ویران پیا تو میرا کُل جہان پیا مری ہستی، مان، سمان بھی تو مرا زھد، ذکر، وجدان بھی تو مرا، کعبہ، تھل، مکران بھی تو میرے سپنوں کا سلطان بھی تو کبھی تیر ہوئی، تلوار ہوئی ترے ہجر میں آ بیمار ہوئی کب میں تیری سردار ہوئی میں ضبط کی چیخ پکار ہوئی مرا لوں لوں تجھے بلائے وے مری جان وچھوڑا کھائے وے ترا ہجر بڑا بے درد سجن مری جان پہ بن بن آئے وے مری ساری سکھیاں روٹھ گئیں مری رو رو اکھیاں پھوٹ گئیں تجھے ڈھونڈ تھکی نگری نگری اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں کبھی میری عرضی مان پیا میں چپ، گم صم، سنسان پیا می...